السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، فَقِيلَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَنْ ذَكَرْتَ؟ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، قِيلَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَا اسْمُهُنَّ؟ "، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ، وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " وَعَقَدَ تِسْعِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "..زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے چار عورتوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ بعض، بعض سے (روایت کرنے میں) نیچے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابو محمد! کس نے تذکرہ کیا؟ کہتے ہیں: زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چار عورتوں کے متعلق ان کی روایت بعض کی بعض سے ہے۔ کہا گیا: اے ابو محمد! ان کے نام کیا ہیں؟ زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا سے، وہ اپنی والدہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس شر سے عرب کے لیے ہلاکت ہے جو قریب آ پہنچا ہے، آج یاجوج و ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے“ اور آپ ﷺ نے نوے کی گرہ لگا کر اشارہ کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے اندر نیک لوگ ہوں گے اور پھر بھی ہم ہلاک کر دیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! جب خباثت عام ہو جائے گی۔“