السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20178
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ⦗١٥٤⦘ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، يَعْنِي: ابْنَ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ، يَأْخُذُونَ بِسُنَنِهِ، وَيَقْتَدُونَ بِهَا، ثُمَّ يَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي مَعْنَاهُ، قَدْ مَضَى بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی نبی اللہ رب العزت نے مجھ سے پہلے مبعوث کیا، اس کی امت میں سے اس کے حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو اس کی سنت کو لیتے اور اس کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف ہوئے جو وہ کہتے تھے جو کرتے نہیں تھے اور وہ کرتے تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پس جس نے ان سے اپنے ہاتھ سے جہاد کیا وہ مومن ہے، جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے ان سے اپنے دل سے جہاد کیا وہ مومن ہے، اس کے بعد ذرہ برابر بھی ایمان نہیں ہے۔“