السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل المؤمن القوي الذي يقوم بأمر الناس، ويصبر على أذاهم باب: اس طاقتور مومن کی فضیلت کا بیان جو لوگوں کے معاملات سنبھالتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 20176
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَسْعَسَ بْنِ سَلَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: " إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَخْلُوَ بِعِبَادَةِ رَبِّي، وَأَعْتَزِلَ النَّاسَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا تَفْعَلْهُ، وَلَا يَفْعَلْهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ "، قَالَهَا ثَلَاثًا، " فَلَصَبْرُ سَاعَةٍ فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا خَالِيًا ".حافظ ثناء اللہ
عکاس بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے اپنے ایک ساتھی کو گم پایا پھر اسے لایا گیا، اس نے عرض کیا: میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں سے جدا رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تو ایسا کر اور نہ ہی تم میں سے کوئی ایسا کرے۔“ تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ بات کہی، پھر فرمایا: ”کسی ایک گھڑی مسلمانوں کی مجالس میں صبر کر لینا، یہ چالیس سال کی تنہائی میں عبادت سے بہتر ہے۔“