السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20172
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ. . . " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ مَسْرُوقٌ " لَأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا بِحَقٍّ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَغْزُوَ سَنَةً فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو حاکم نہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔“ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حق کا فیصلہ کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ ایک سال تک اللہ کے راستے میں جہاد کروں۔