السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20170
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ، وَكَانَ قَاضِيَ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: لِأِيِّ مَجْلِسٍ يَعْنِي؟ " قَالَ: " كَانَ قَاضِيًا ".حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کردوس بن قیس رحمہ اللہ سے سنا، جس سال وہ کوفہ کے قاضی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بدری صحابہ میں سے کسی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، جس نے نبی ﷺ سے سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اس مجلس میں بیٹھنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار گردنیں آزاد کروں۔“
شعبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کون سی مجلس؟ فرمایا: قاضی کی مجلس۔