حدیث نمبر: 20149
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ} [النساء: 58]، وَقَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: 49]، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمَّالَ وَالْقُضَاةَ، وَكَذَلِكَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ، وَبِهِمُ الْقُدْوَةُ فِي الشَّرِيعَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ ”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔“ [سورة النساء: 58]
اور اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ”اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔“ [سورة المائدة: 49]
اور رسول اللہ ﷺ نے عمال (حکام) اور قاضی بھیجے، اور اسی طرح آپ ﷺ کے بعد خلفاء نے بھی (بھیجے)، اور شریعت میں انہی کی اقتدا کی جاتی ہے، اور توفیق اور حفاظت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى نَجْرَانَ، فَشَكَوْهُ، فَقَالَ: " لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نجران پر ایک آدمی کو حاکم بنا کر روانہ کیا تو اہل نجران نے اس کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے اندر ایک امین آدمی کو بھیج دوں گا، جو امانت کا حق بھی ادا کرے گا“ تو آپ ﷺ کے صحابہ نے (اشتیاق سے) دیکھا تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20149
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»