السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من مات وعليه نذر باب: اس شخص کا بیان جو فوت ہو جائے اور اس پر کوئی نذر باقی ہو۔
حدیث نمبر: 20148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللهُ، ⦗١٤٦⦘ فَلَمْ تَصُمْ، حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتْ بِنْتُهَا، أَوْ أُخْتُهَا، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا " سَائِرُ الرِّوَايَاتِ فِيهِ قَدْ مَضَتْ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ وَكِتَابِ الْحَجِّ وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندری سفر شروع کیا، اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ نے اس کو نجات دے دی لیکن وہ روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوگئی، اس کی بیٹی یا بہن آئی تو نبی ﷺ نے اس کی جانب سے ”روزے رکھنے کے بارے میں حکم دیا“۔