حدیث نمبر: 20128
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْيٌ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًى لَهَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، ثُمَّ لِتَمْشِ مِنْ حَيْثُ عَجَزَتْ "..
حافظ ثناء اللہ

عروہ بن اذینہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی دادی کے ساتھ چلا جس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی تھی۔ جب راستے میں پہنچے تو وہ چلنے سے عاجز آگئی۔ اس نے اپنے غلام کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان سے سوال کریں۔ میں بھی ساتھ گیا۔ فرمانے لگے: اس کو حکم دو وہ سوار ہو جائے، پھر یہاں سے پیدل چلے جہاں سے وہ عاجز آگئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20128
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»