السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً نَاشِرَةً شَعْرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرُوهَا فَلْتُغَطِّي رَأْسَهَا، وَلْتَرْكَبْ ".حافظ ثناء اللہ
ایوب عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نظر ایک بکھرے ہوئے بالوں والی عورت پر پڑی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے نذر مانی ہے کہ پیدل چل کر، بال کھول کر حج کرے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ اپنے سر کو ڈھانپے اور سواری کر لے۔“