السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20123
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، إِذَ بَصُرَ بِخَيَالٍ قَدْ نَفَرَتْ مِنْهُ إِبِلُهُمْ، فَأَنْزَلَ رَجُلًا، فَنَظَرَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ عُرْيَانَةٍ نَاقِضَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ الْبَيْتَ مَاشِيَةً عُرْيَانَةً نَاقِضَةً شَعْرِي، فَأَنَا أَتَكَمَّنُ بِالنَّهَارِ وَأَتَنَكَّبُ الطَّرِيقَ بِاللَّيْلِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتَلْبَسْ ثِيَابَهَا وَلْتُهْرِقْ دَمًا " هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ، دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آدھی رات کے وقت ایک قافلے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک قافلہ کو دیکھا، جن کا اونٹ بھاگ گیا تھا۔ ایک آدمی اترا، اس نے دیکھا کہ ایک عورت ننگی، کھلے بال اونٹ پر سوار ہے۔ اس نے کہا: تجھے کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: میں نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ کا حج ننگے اور کھلے بالوں کروں گی۔ میں دن کو چھپ جاتی ہوں اور رات کو سفر کرتی ہوں۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ کپڑے پہنے اور قربانی دے۔“