السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، لِتَحُجَّ رَاكِبَةً، ثُمَّ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا " تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ الْقَاضِي.حافظ ثناء اللہ
کریب، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو تیری بہن کے اس عمل کی کوئی پروا نہیں۔ وہ سوار ہو کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔“