السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20119
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يَصْنَعُ بِمَشْيِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میری بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری بہن کے پیدل چلنے سے اللہ کو کیا غرض۔“