السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20082
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَذْبَحَ نَفْسَهُ، قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ فَأَفْتَاهُ بِكَبْشٍ ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی کہ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ تو انہوں نے ایک مینڈھے کا فتویٰ دیا۔