السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترسيل الأذان وحذم الإقامة باب: اذان ٹھہر ٹھہر کر اور اقامت جلدی کہنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ أنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ الْبَصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ: " يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ ⦗٦٢٩⦘ فَتَرَسَّلْ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْذِمْ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ نُعَيْمٍ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: هُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَيَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ الْبُكَاءُ الْكُوفِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! جب تو اذان دے تو آہستہ آہستہ دے اور جب اقامت کہے تو جلدی کہہ اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ کہ کھانے والا کھانے سے فارغ ہو جائے اور پینے والا اپنے پینے سے اور قضائے حاجت کو جانے والا قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے اور تم نہ کھڑے ہو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو۔“ (ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالمنعم منکر الحدیث ہے اور یحییٰ بن مسلم بکاء کوفی کو یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
یہ روایت ایک دوسری سند سے حسن اور عطاء کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ معروف نہیں ہے۔