السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترسيل الأذان وحذم الإقامة باب: اذان ٹھہر ٹھہر کر اور اقامت جلدی کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2007
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ؛ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالتَّرْغِيبُ فِي رَفْعِ الصَّوْتِ يَدُلُّ عَلَى تَرْتِيلِ الْأَذَانِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا خیال ہے کہ آپ بکریوں اور کھیتوں کو پسند کرتے ہیں، جب آپ اپنی بکریوں اور کھیتوں میں ہوں تو نماز کے لیے اذان کہیں اور اذان کے وقت اپنی آواز بلند کریں، ”آپ کی آواز دور تک جن، انسان اور جو چیز بھی سنے گی وہ قیامت کے دن گواہی دے گی۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آواز کا بلند کرنا اذان (کے کلمات) ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنے پر دلیل ہے۔