السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: " أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَتْ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا تَنْحَرِي ابْنَكِ، وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ " فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسٌ: وَكَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: ٣]، ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ ". وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ: فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ: " وَكَيْفَ تَكُونُ كَفَّارَةٌ فِي طَاعَةِ الشَّيْطَانِ "؟ فَقَالَ: " بَلَى، أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَخَالَفَهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " يَذْبَحُ كَبْشًا ".یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک عورت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اپنے بیٹے کو ذبح مت کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ ایک بزرگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کہنے لگے: اس میں کفارہ کیسے؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ﴾ [سورة المجادلة: 3] ”وہ لوگ جو اپنی عورتوں سے ظہار کر لیتے ہیں۔“ پھر اس میں کفارہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔
(ب) جعفر کی روایت ہے کہ بزرگ نے فرمایا: شیطان کی اطاعت میں کفارہ کیسے ہوگا؟ تو فرمانے لگے: کیوں نہیں، کیا اللہ فرماتے نہیں۔۔۔ اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مینڈھا ذبح کرے۔