السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الخلاف في النذر الذي يخرجه مخرج اليمين باب: اس نذر کے بارے میں اختلاف کا بیان جسے قسم کے طور پر ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20054
وَأَمَّا الْمَذْهَبُ الثَّالِثُ: فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَاضِرٍ ⦗١١٧⦘ قَالَ: حَلَفَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ ذِي أَصْبَحَ فَقَالَتْ: " مَالُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَجَارِيَتُهَا حُرَّةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا " لِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ زَوْجُهَا، فَحَلَفَ زَوْجُهَا أَنْ لَا يَفْعَلَهُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَا: " أَمَّا الْجَارِيَةُ فَتَعْتِقُ، وَأَمَّا قَوْلُهَا: مَالِي فِي سَبِيلِ اللهِ، فَتَصَدَّقُ بِزَكَاةِ مَالِهَا. كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِ التَّكْفِيرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَعْنَاهُ مَذْهَبٌ آخَرُ.حافظ ثناء اللہ
عثمان بن ابی حاضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آلِ ذی اصبح کی ایک عورت نے قسم کھائی، کہنے لگی: اس کا مال اللہ کے راستے میں ہے، اس کی لونڈی آزاد ہے، اگر اس نے یہ کام نہ کیا۔ اس کا خاوند اس کو ناپسند کرتا تھا، اس کے خاوند نے قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہ کرے گا۔ اس کے متعلق سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: لونڈی آزاد ہے، لیکن اس کے مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ کفارہ بھی ادا کرے۔