السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الخلاف في النذر الذي يخرجه مخرج اليمين باب: اس نذر کے بارے میں اختلاف کا بیان جسے قسم کے طور پر ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللهُ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِيَ الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مُلْكِي كُلِّهِ صَدَقَةً "، قَالَ: " يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ "..حافظ ثناء اللہ
ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا جسے اللہ نے چاہا، نبی ﷺ سے کہنے لگے: میں اپنی توبہ کی وجہ سے اپنے قبیلہ کے گھر کو اللہ کے راستہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف مال کا تیسرا حصہ صدقہ کرو، یہ تجھے کفایت کر جائے گا۔“