السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: التتابع في صوم الكفارة باب: کفارے کے روزوں میں تسلسل (لگاتار رکھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 20009
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدٌ: يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ قَالَ: " كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ مُجَاهِدٍ، فَجَاءَ إِنْسَانٌ يَسْأَلُهُ عَنْ صِيَامِ الْكَفَّارَةِ، أَتَتَابُعٌ؟ قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ: " لَا "، فَضَرَبَ مُجَاهِدٌ فِي صَدْرِي وَقَالَ: إِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ: " مُتَتَابِعَاتٍ "..حافظ ثناء اللہ
حمید بن قیس مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مجاہد رحمہ اللہ کے ساتھ طواف کر رہا تھا، ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا کفارات کے روزے مسلسل رکھنا ضروری ہے؟ حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ ابی رضی اللہ عنہ کی قراءت میں «مُتَتَابِعَاتٍ» کے الفاظ ہیں، یعنی مسلسل رکھے۔