السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما يجوز في عتق الكفارات باب: کفارات میں غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کیا جائز ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الطِّيَرَةِ، وَفِي الْعُطَاسِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: "، ثُمَّ أَطَلَعْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْهَا شَاةً، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ: " بَلَى، ائْتِنِي بِهَا "، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: " أَيْنَ اللهُ؟ " قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " فَمَنْ أَنَا "؟ قَالَتْ: " أَنْتَ رَسُولُ اللهِ "، قَالَ: " إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ دُونَ قِصَّةِ الْجَارِيَةِ.سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر جمائی لینے کے متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جسے ایک لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا، میں بھی ابنِ آدم ہوں جیسے ان کو غصہ آتا ہے مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کر دیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لاؤ۔“ کہتے ہیں: میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“