السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الحالف يسكت بين يمينه واستثنائه سكتة يسيرة لانقطاع صوت، أو أخذ نفس باب: قسم کھانے والے کا اپنی قسم اور استثناء کے درمیان آواز ٹوٹنے یا سانس لینے کی وجہ سے تھوڑی دیر خاموش رہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أنبأ ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ صَحَّ هَذَا - لَمْ يَقْصِدْ رَدَّ الِاسْتِثْنَاءِ إِلَى الْيَمِينِ، وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} [الكهف: ٢٤].عکرمہ رحمہ اللہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر خاموش رہے، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“
شیخ فرماتے ہیں: اس میں قسم کے اندر استثناء کا رد نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا﴾ [سورة الكهف: 23] ”اور آپ کسی کام کے لیے یہ نہ کہیں کہ میں کل اس کو کرنے والا ہوں۔“