❮
❯
حدیث نمبر: 19930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أنبأ ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ صَحَّ هَذَا - لَمْ يَقْصِدْ رَدَّ الِاسْتِثْنَاءِ إِلَى الْيَمِينِ، وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} [الكهف: ٢٤].
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر خاموش رہے، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ روایت صحیح ہو تو احتمال ہے کہ آپ ﷺ کا مقصد استثناء کو قسم کی طرف لوٹانا نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہا: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا * إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الكهف: 23-24] ”اور آپ کسی کام کے لیے یہ نہ کہیں کہ میں کل اس کو کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19930
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»