حدیث نمبر: 19906
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ: فَقَالَ: " مَا نَوَيْتَ بِذَلِكَ "؟ قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: " آللَّهِ "، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: " فَهُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ "،.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن علی بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی کو «أَلْبَتَّةَ» ”البتہ“ طلاق دے دی، انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تیری نیت کیا تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: ایک، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے ارادے پر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19906
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»