السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التسمية على الوضوء باب: وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمٍ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ عَلَى وَضُوئِهِ كَانَ طَهُورًا لِجَسَدِهِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَى وَضُوئِهِ كَانَ طَهُورًا لِأَعْضَائِهِ ". ⦗٧٤⦘ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ. أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ غَيْرُ ثِقَةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور وضو پر اللہ کا نام لے، یعنی «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھے تو یہ وضو اس کے جسم کے لیے (مکمل) پاکیزگی ہوگی اور جس نے وضو کیا، لیکن اللہ کا نام نہ لیا، یعنی «بِسْمِ اللّٰهِ» نہ پڑھی تو یہ وضو صرف اس کے اعضا کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوگا۔“
(ب) یہ روایت بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
(ج) ابوبکر داہری محدثین کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔
(ر) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے۔