السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التسمية على الوضوء باب: وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
وَبِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا هُوَ يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَطَهَّرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ، فَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدُكُمُ اسْمَ اللهِ عَلَى طُهُورِهِ لَمْ يُطَهِّرْ إِلَّا مَا مَرَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ، فَإِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ طُهُورِهِ فَلْيَشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَيَّ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ " وَهَذَا ضَعِيفٌ لَا أَعْلَمُهُ رَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ، غَيْرُ يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے پھر اللہ کا نام لے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور اگر کوئی وضو کرتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پاک نہیں ہوتا، صرف اس پر پانی گزر جاتا ہے اور جب تم سے کوئی اپنی طہارت سے فارغ ہو تو وہ گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، پھر مجھ پر درود پڑھے۔ جب ایسا کرے گا تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے، میرے علم کے مطابق یحییٰ بن ہاشم نے ہی اعمش سے روایت کیا ہے۔
(ج) یحییٰ بن ہاشم متروک الحدیث ہے۔
(د) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت ایک دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔