السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية التثويب في غير أذان الصبح باب: فجر کے علاوہ دیگر اذانوں میں تثویب کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1988
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يُثَوِّبَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَلَا يُثَوِّبَ فِي غَيْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز میں «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے“ کہنے کا حکم دیا گیا، اس کے علاوہ میں «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے“ کہنے کا حکم نہیں دیا گیا۔