السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19864
وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلْكِ يَمِينِهِ أَنْ يَضْرِبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ تَرْكُهُ، وَمَعَ الْكَفَّارَةِ حَسَنَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابومعبد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے اپنے غلام کے بارے میں قسم اٹھائی کہ وہ اسے مارے گا تو اس کا کفارہ (مارنا) ترک کردینا ہے اور کفارے کے ساتھ نیکی کرنا بھی ہے۔“