السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من كره الأيمان بالله إلا فيما كان لله طاعة باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی قسم کھانے کو مکروہ سمجھا سوائے ان کاموں کے جن میں اللہ کی اطاعت ہو۔
حدیث نمبر: 19840
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْيَمِينُ أَثَمَةٌ أَوْ مَنْدَمَةٌ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: وحَدِيثُ عُمَرَ أَوْلَى.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن محمد بن زید فرماتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سنا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم گناہ کی ہے یا ندامت کا باعث ہے۔