السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف بغير الله، ثم حنث، أو حلف بالبراءة من الإسلام، أو بملة غير الإسلام، أو بالأمانة باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، پھر اسے توڑ دیا، یا اسلام سے براءت کی، یا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی، یا امانت کی قسم کھائی۔
حدیث نمبر: 19837
أَخْبَرَنَا أَبُوِ بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ قَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ، يَقُولَانِ: " لَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ - يَعْنِي: مَنْ حَلَفَ بِالْيَهُودِيَّةِ، أَوِ النَّصْرَانِيَّةِ، ثُمَّ حَنِثَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اور حضرت حسن رحمہ اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ جس نے یہودیت یا نصرانیت کے لیے قسم اٹھائی، پھر قسم توڑتا ہے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔