السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: كراهية خصاء البهائم باب: جانوروں کو خصی کرنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عُمَرَ الصَّحَّافُ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ "، وَقَالَ: " إِنَّمَا النَّمَاءُ فِي الْحَبَلِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ جُبَارَةُ أَيْضًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَهَذَا الْمَتْنُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَشْبَهُ، فَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ فِيهِ ضَعْفٌ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اونٹوں، بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”نسل کا بڑھنا تو صرف حمل سے ہوتا ہے۔“
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
یہ متن عبداللہ بن نافع والی سند کے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع میں ایسا ضعف ہے جس کی وجہ سے موقوف روایات کو مرفوع بیان کر دینا ان سے بعید نہیں۔ اور یہ موسیٰ بن یسار عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔