السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: كراهية خصاء البهائم باب: جانوروں کو خصی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ، قِيَاسٌ عَلَى مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَهُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ عُبَيْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مُرْسَلًا، وَجَعَلَ الْكَلَامَ فِي الْإِخْصَاءِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن موسیٰ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”جاندار کو باندھ کر مارنے سے (منع فرمایا)، اور چوپاؤں کو خصی کرنا بھی سخت قسم کا باندھنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ان کا یہ قول کہ ”چوپاؤں کو خصی کرنا سخت قسم کا باندھنا ہے“ اس چیز پر قیاس ہے جس سے منع کیا گیا ہے یعنی جاندار کو باندھ کر مارنا، اور یہ زہری رحمہ اللہ کا قول ہے؛ کیونکہ عبیداللہ کے علاوہ دوسروں نے اسے ابن ابی ذئب سے مرسل روایت کیا ہے اور خصی کرنے والی بات کو زہری کا قول قرار دیا ہے۔