السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في المصارعة باب: کشتی کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِ يَزِيدُ بْنُ رُكَانَةَ، أَوْ رُكَانَةُ بْنُ يَزِيدَ وَمَعَهُ أَعْنُزٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ أَنْ تُصَارِعَنِي؟ فَقَالَ: " مَا تَسْبِقُنِي "، قَالَ: شَاةٌ مِنْ غَنَمِي، فَصَارَعَهُ، فَصَرَعَهُ، فَأَخَذَ شَاةً، قَالَ رُكَانَةُ: هَلْ لَكَ فِي الْعَوْدِ؟ قَالَ: " مَا تَسْبِقُنِي "؟ قَالَ: أُخْرَى، ذَكَرَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا وَضَعَ أَحَدٌ جَنْبِي إِلَى الْأَرْضِ، وَمَا أَنْتَ الَّذِي تَصْرَعُنِي، يَعْنِي: فَأَسْلَمَ، وَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمَهُ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بطحاء نامی جگہ پر تھے کہ آپ ﷺ کے پاس یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید آیا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے کہا: ”اے محمد ﷺ! کیا آپ میرے ساتھ کشتی کریں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہار گئے تو کیا دو گے؟“ کہنے لگا: ”ایک بکری۔“ آپ ﷺ نے کشتی کی تو اس کو گرا دیا اور ایک بکری لے لی۔ رکانہ کہتا ہے: ”دوبارہ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہار گئے تو کیا دو گے؟“ کہتا ہے: ”دوسری بکری۔“ کئی مرتبہ ایسے ہوا۔ کہنے لگا: ”اے محمد! میری کمر کسی نے زمین پر نہیں لگائی، یعنی گرا نہیں، لیکن آپ نے تو مجھے گرا دیا۔“ وہ مسلمان ہو گیا تو آپ ﷺ نے اس کی بکریاں واپس کر دیں۔