السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في المصارعة باب: کشتی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ، فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ، قَالَ: " وَعُرِضْتُ عَامًا، فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ، لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، ⦗٣٢⦘ قَالَ: " فَصَارِعْهُ "، فَصَارَعْتُهُ، فَصَرَعْتُهُ، فَأَلْحَقَنِي..حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے ہر سال انصار کے دو بچے پیش کیے جاتے۔ آپ ﷺ اسے اپنے ساتھ ملا لیتے جسے درست پاتے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک سال پیش کیا گیا۔ ایک بچے کو تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا، اگر میں اس کے ساتھ کشتی میں مقابلہ کروں تو میں اس کو گرا دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کشتی کرو۔“ میں نے اس سے کشتی کی تو میں نے اس کو گرا دیا، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔