السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: التحريض على الرمي باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19738
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ " أَمَّا بَعْدُ: " فَاتَّزِرُوا وَانْتَعِلُوا وَارْتَدُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ وَعَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيكُمْ إِسْمَاعِيلَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ الْعَجَمِ، وَعَلَيْكُمْ بِالشَّمْسِ، فَإِنَّهَا حَمَّامُ الْعَرَبِ، وَتَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَاخْلَوْلِقُوا، وَاقْطَعُوا الرَّكْبَ وَانْزُوا عَلَى الْخَيْلِ نَزْوًا، وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ، وَامْشُوا مَا بَيْنَهَا، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ "..حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں سیدنا عقبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے فرمایا: تہبند باندھو، جوتے پہنو، چادر اوڑھ لو، موزے اور شلواریں اتار دو اور اپنے باپ اسماعیل علیہ السلام کا لباس پہنو، عیش و عشرت اور عجمیوں کی مشابہت سے بچو، دھوپ کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے اور تندرستی کو اختیار کرو، مہذب بن جاؤ اور امید رکھو اور گھوڑی پر خچر کو چھوڑو اور ٹخنوں سے اوپر کپڑا کاٹ ڈالو اور ہدف مقرر کر کے ان کے درمیان چلو۔