السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: التحريض على الرمي باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ " أَمَّا بَعْدُ: " فَاتَّزِرُوا وَانْتَعِلُوا وَارْتَدُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ وَعَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيكُمْ إِسْمَاعِيلَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ الْعَجَمِ، وَعَلَيْكُمْ بِالشَّمْسِ، فَإِنَّهَا حَمَّامُ الْعَرَبِ، وَتَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَاخْلَوْلِقُوا، وَاقْطَعُوا الرَّكْبَ وَانْزُوا عَلَى الْخَيْلِ نَزْوًا، وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ، وَامْشُوا مَا بَيْنَهَا، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ "..ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے فرمایا: تہبند باندھو، جوتے پہنو، چادر اوڑھ لو، موزے اور شلواریں اتار دو اور اپنے باپ اسماعیل علیہ السلام کا لباس پہنو، عیش و عشرت اور عجمیوں کی مشابہت سے بچو، دھوپ کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے اور معد (بن عدنان) کی طرح سادہ زندگی اختیار کرو، سخت جان بنو اور پرانے کپڑے پہنو، رکابیں کاٹ دو اور گھوڑوں پر اچھل کر سوار ہوا کرو، نشانوں پر تیر اندازی کرو اور ان کے درمیان پیدل چلو۔ اور (راوی نے) باقی حدیث ذکر کی۔