السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: التحريض على الرمي باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19733
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَكُلُّ شَيْءٍ يَلْهُوَ بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، أَوْ تَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، أَوْ مُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ تَرَكَ ⦗٢٤⦘ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِمَهُ "، كَذَا فِي كِتَابِ ابْنِ يَزِيدَ، وَقَالَ غَيْرُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو، اور تیر اندازی مجھے گھڑ سواری سے زیادہ پسند ہے۔ تمام قسم کی کھیلیں جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، لیکن تیراندازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے چھیڑچھاڑ کرنا یہ درست ہیں۔ تیر اندازی سیکھنے کے بعد چھوڑنا ایسے ہے جیسے اس نے کسی چیز کو جاننے کے بعد کفر کیا۔“