حدیث نمبر: 19716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، قَالَ: " مَا كَانَ اللهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: " عَلَيَّ "، قَالَ: فَقَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا، قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْحَجَبِيِّ عَنْ خَالِدٍ، وَرَوَيْنَا فِيهِ حَدِيثَ جَابِرٍ وَغَيْرِهِ فِي كِتَابِ الْجِرَاحِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے نبی ﷺ کو زہر آلود بھنی ہوئی بکری پیش کی تو آپ ﷺ نے اس سے کھا لیا، اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا تو وہ کہنے لگی: میں نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے میرے اوپر مسلط نہیں کرے گا، (یعنی تو مجھے ہلاک نہیں کر سکتی)“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں اس کو نبی ﷺ کے کوّے یعنی حلق میں ہمیشہ محسوس کرتا رہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19716
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»