السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: استعمال أواني المشركين، والأكل من طعامهم باب: مشرکین کے برتن استعمال کرنے اور ان کا کھانا کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19715
وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو فَنَأْكُلُ فِي أَوْعِيَةِ الْمُشْرِكِينَ، وَنَشْرَبُ فِي أَسْقِيَتِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تو ہم مشرکین کے برتنوں میں کھاتے اور ان کے مشکیزوں سے پیتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرملہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کو ایک بھنی ہوئی زہر آلود بکری تحفہ میں دی گئی۔ آپ ﷺ نے اور دوسروں نے بھی اس سے کھا لیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب سے میں نے یہ زہر آلود بکری کھائی ہے، اس وقت سے اس نے مجھے بیمار کر چھوڑا ہے اور اس وقت بھی یہ میری شاہ رگ کو کاٹ رہی ہے۔“