السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم على بني إسرائيل، ثم ورد عليه النسخ بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم باب: ان چیزوں کا بیان جو بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں، پھر ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت نے انہیں منسوخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 19707
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ الْحَرْبِيُّ، ثنا سَعْدَوَيْهِ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ فَاحْتَضَنْتُهُ "، فَقُلْتُ: " لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا دن تھا تو مجھے ایک چربی کی تھیلی ملی، میں نے اس کو الگ کر لیا، میں نے کہا: اس میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دینا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آپ ﷺ مسکرا رہے تھے۔
نوٹ: اہل کتاب کے ذبیحہ کی چربی جائز ہے تو ذبیحہ بھی جائز ہے۔