السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم على بني إسرائيل، ثم ورد عليه النسخ بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم باب: ان چیزوں کا بیان جو بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں، پھر ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت نے انہیں منسوخ کر دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَاقْتَدُوا بِهِ، وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ، وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ، وَإِلَى أُولِي الْعِلْمِ مِنْ بَعْدِي كَمَا يُخْبِرُوكُمْ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ، وَلِيَسَعْكُمُ الْقُرْآنُ، وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَا حَلَّ مُصَدَّقٌ، أَلَا وَلِكُلِّ آيَةٍ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، وَأُعْطِيتُ طَهَ وَطَوَاسِينَ وَالْحَوَامِيمَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ "، عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَأَحَلَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ أَهْلِ التَّفْسِيرِ ذَبَائِحَهُمْ، لَمْ يَسْتَثْنِ مِنْهَا شَيْئًا، فَلَا يَجُوزُ أَنْ تَحِلَّ ذَبِيحَةُ كِتَابِيٍّ، وَفِي الذَّبِيحَةِ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، مِمَّا كَانَ حُرِّمَ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ قَبْلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قرآن پر عمل کرو، اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانو اور تم اس کی اقتدا کرو اور تم اس میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر مشتبہ ہو جائے تو اس کو اللہ کی طرف لوٹا دو اور میرے بعد علم والوں کی طرف جو تمہیں خبر دیں اور تم تورات، انجیل، زبور اور جو انبیاء اپنے رب کی طرف سے دیے گئے ان پر ایمان رکھو اور تمہیں قرآن اور جو کچھ اس میں ہے کافی ہے۔ کیونکہ وہ ایسا سفارشی ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اس کی حلال چیزوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبردار! ہر آیت قیامت کے دن نور ہوگی اور میں سورہ بقرہ پہلے ذکر میں سے دیا گیا ہوں اور میں طہٰ اور وہ سورتیں جن کے شروع میں ط سین اور حم وغیرہ آتا ہے، موسیٰ علیہ السلام کی تختیوں میں سے دیا گیا ہوں اور میں سورہ فاتحہ عرش کے نیچے سے دیا گیا ہوں۔“
عبیداللہ بن ابی حمید پر (محدثین نے) کلام کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ نے اہل کتاب کا کھانا حلال قرار دیا۔ اہل تفسیر کے نزدیک اس سے مراد ان کے ذبیحے ہیں، اللہ نے ان میں سے کسی چیز کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ لہٰذا یہ جائز نہیں کہ کتابی کا ذبیحہ تو حلال ہو اور اس ذبیحہ میں کوئی ایسی چیز ہر مسلمان پر حرام ہو جو نبی ﷺ سے پہلے اہل کتاب پر حرام کی گئی تھی۔