السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم على بني إسرائيل، ثم ورد عليه النسخ بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم باب: ان چیزوں کا بیان جو بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں، پھر ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت نے انہیں منسوخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 19704
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " هُوَ مَا كَانَ اللهُ أَخَذَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمِيثَاقِ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ، أَنْ يَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَمْ يَبْقَ خَلْقٌ يَعْقِلُ مُنْذُ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ جِنٍّ وَلَا إِنْسٍ، بَلَغَتْهُ دَعْوَتُهُ، إِلَّا قَامَتْ عَلَيْهِ حُجَّةُ اللهِ بِاتِّبَاعِ دِينِهِ، وَلَزِمَ كُلَّ امْرِئٍ مِنْهُمْ تَحْرِيمُ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ، وَإِحْلَالُ مَا أَحَلَّ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ وعدہ لیا تھا، ان کے بارے میں جو ان پر حرام قرار دیا کہ وہ ان چیزوں کو ان سے ہٹا دے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ کی بعثت کے وقت کوئی عقل مند مخلوق نہیں بچی جس تک نبی ﷺ کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اب ان کے دین کی اتباع والی اللہ کی حجت پوری ہو گئی اور ہر آدمی کے لیے وہ حرام تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے حرام قرار دیا اور وہی حلال تھا جس کو نبی ﷺ نے حلال قرار دیا۔