السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم على بني إسرائيل، ثم ورد عليه النسخ بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم باب: ان چیزوں کا بیان جو بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں، پھر ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت نے انہیں منسوخ کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ {كُلَّ ذِي ظُفُرٍ} [الأنعام: ١٤٦]، قَالَ: هُوَ الْبَعِيرُ وَالنَّعَامَةُ، وَفِي قَوْلِهِ {إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا} [الأنعام: ١٤٦]: يَعْنِي مَا عَلَقَ بِالظَّهْرِ مِنَ الشَّحْمِ {أَوِ الْحَوَايَا} [الأنعام: ١٤٦]: وَهُوَ الْمَبْعَرُ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ مِنْ قَوْلِهِ فِي تَفْسِيرِ، كُلِّ ذِي ظُفُرٍ، والْحَوَايَا.ابن عباس رضی اللہ عنہما ﴿كُلَّ ذِي ظُفُرٍ﴾ [سورة الأنعام: 146] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اونٹ اور شتر مرغ ہے اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا﴾ [سورة الأنعام: 146] وہ پشت کی چربی یا آنتوں کی چربی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَالْحَوَايَا»، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ”اللہ یہود پر لعنت کرے کہ اللہ نے ان پر چربی حرام کی، لیکن انہوں نے اس کو پگھلایا اور فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھایا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اللہ نے بنی اسرائیل پر حرام قرار دیا تھا وہ حرام ہی رہا، جب نبی کریم ﷺ مبعوث کیے گئے، تب پہلے والے احکامات کو منسوخ کر دیا۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾ [سورة آل عمران: 19] ”اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔“ ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 64] ”اے اہل کتاب! ایک کلمہ کی طرف آؤ، جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اور ان سے لڑائی کا حکم دیا، یہاں تک کہ جزیہ دیں یا اسلام قبول کر لیں۔“
﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الأعراف: 157] ”وہ لوگ جو نبی امی کی پیروی کرتے ہیں، جس کو وہ توراۃ و انجیل میں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور بری چیزیں حرام قرار دی گئیں اور ان کے بوجھ جو ان پر ہیں ہلکے کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ ان کے بوجھوں کو خوب جانتا ہے اور جو وہ بدعات کرتے تھے ان سے منع کر دیے گئے۔ نبی کریم ﷺ کے دین کے مشروع ہونے سے پہلے۔