السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل من الجبن، وما لا يحل باب: پنیر میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ أَوْ قَالَ غَيْرِي مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ، آكُلُهَا؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ فَفَرَّخْتُهَا، فَأَخْرَجَتْ فَرْخًا، آكُلُهُ؟ "، قَالَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ".حافظ ثناء اللہ
کثیر بن جمعان فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبدالرحمن، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا (یا میرے علاوہ کسی اور نے کہا): میرا گزر ایک مردہ مرغی کے پاس سے ہوا، میں نے اس کو روندا تو انڈا باہر آگیا، کیا یہ انڈا میں کھا لوں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! اگر میں مردہ مرغی کے پاس سے گزروں اور اس پر وزن ڈالوں اور اس سے انڈا نکل آئے اور اس انڈے سے چوزہ نکل آئے تو کیا پھر میں اسے کھا لوں؟ فرمایا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔