السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل من الجبن، وما لا يحل باب: پنیر میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ، فَقَالَ: " سَمِّ وَكُلْ "، فَقِيلَ: إِنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَقَالَ: " إِنْ عَلِمْتَ أَنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَلَا تَأْكُلْهُ ". وَقَدْ كَانَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَا يَسْأَلُ عَنْهُ تَغْلِيبًا لِلطَّهَارَةِ، رُوِّينَا ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، وَبَعْضُهُمْ يَسْأَلُ عَنْهُ احْتِيَاطًا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أَخِرَّ مِنْ هَذَا الْقَصْرِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ جُبْنًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ " وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنِ الْجُبْنِ، وَلَا يَسْأَلُونَ عَنِ السَّمْنِ ".جبلہ بن سحیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پنیر اور گھی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ کہا گیا: اگر وہ مردہ ہو؟ تو فرمایا: اگر مردہ کا بنایا گیا ہو تب نہ کھاؤ۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم طہارت کی وجہ سے سوال نہیں فرماتے تھے اور بعض حضرات احتیاط کی وجہ سے سوال کر لیتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں پنیر کو کھا لوں اور اس کے بارے میں سوال نہ کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم پنیر کے متعلق سوال کر لیتے تھے لیکن گھی کے متعلق سوال نہیں کرتے تھے۔