حدیث نمبر: 19646
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ هُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا عَلَى وَادٍ فِيهِ نَخْلٌ قَدْ أَدْرَكَ فَأَعْطَانِي دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ: اشْتَرِ لَنَا عَلَفًا وَتَمْرًا، فَذَهَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ فِي النَّخْلِ أَحَدًا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مُؤْمِنًا حَقًّا فَلَا تَأْكُلْ مِنَ النَّخْلِ تَمْرَةً. فَبَاتَ وَبَاتَتْ حَمَّارَتُنَا جَائِعِينَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے بیان کیا کہ ہم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم کھجوروں کے ایک باغ میں آئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو درہم دیے تاکہ گھاس اور کھجور خرید کر لائیں لیکن باغ میں میں نے کسی کو بھی نہ پایا۔ واپس پلٹ کر بتایا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو اچھا لگے تو کھجور کا پھل نہیں کھاتا، تو ہمارے گدھے اور ہم نے بھوکے ہی رات گزار دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19646
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»