السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل من الميتة بالضرورة باب: مجبوری کی حالت میں مردار میں سے کتنا کھانا حلال ہے۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ} [الأنعام: 119]، وَقَالَ: {إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 173]. قَالَ مُجَاهِدٌ: {غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ} [البقرة: 173] يَقُولُ: غَيْرَ قَاطَعٍ السَّبِيلَ وَلَا مُفَارِقٍ الْأَئِمَّةَ وَلَا خَارِجٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ..اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ ”حالانکہ اس نے تمہارے لیے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس کے جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔“ [سورة الأنعام: 119]
اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ ”اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز حرام کی ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے، نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 173]
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ﴾ ”نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔“ [سورة البقرة: 173] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی نہ ڈاکہ ڈالنے والا ہو، نہ مسلمانوں کے حکمرانوں سے الگ ہونے (اور بغاوت کرنے) والا ہو، اور نہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی (کے سفر) میں نکلنے والا ہو۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَ بَغْلٌ، أَوْ قَالَ: نَاقَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَفْتِيَهُ، فَزَعَمَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا: " أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " اذْهَبْ كُلْهَا ".سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا خچر یا اونٹنی مر گئی، وہ نبی ﷺ سے فتویٰ پوچھنے آیا تو جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے کوئی چیز اس سے بے پروا کرنے والی ہے؟“ اس نے جواب دیا: کوئی چیز موجود نہیں۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ جا کر کھا لو۔“