حدیث نمبر: 19612
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنِ الرُّقَى وَتَعْلِيقِ الْكُتُبِ، فَقَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَأْمُرُ بِتَعْلِيقِ الْقُرْآنِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنَّهُ إِنْ رَقَى بِمَا لَا يُعْرَفُ أَوْ عَلَى مَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ إِضَافَةِ الْعَافِيَةِ إِلَى الرُّقَى لَمْ يَجُزْ، وَإِنْ رَقَى بِكِتَابِ اللهِ أَوْ بِمَا يَعْرِفُ مِنْ ذِكْرِ اللهِ مُتَبَرِّكًا بِهِ وَهُوَ يَرَى نُزُولَ الشِّفَاءِ مِنَ اللهِ تَعَالَى فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

نافع بن یزید رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے دم اور قرآنی تعویذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ قرآنی تعویذ لٹکانے کا حکم دیتے اور فرماتے: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ایسا دم جس کے بارے میں علم نہ ہو یا جاہلیت کے دموں میں سے ہو وہ جائز نہیں، لیکن جو دم کتاب اللہ یا اللہ کے ذکر سے کیا جائے اور شفاء اللہ کی جانب سے ہے کا نظریہ رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19612
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»