أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ ". قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ وَاللهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ عَمَلَ الشَّيْطَانِ، كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ".سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دم، تمائم اور تولہ شرک ہیں۔“ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: آپ یہ کیوں کہتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میری آنکھیں دکھتی تھیں، میں فلاں یہودی سے دم کروا لیتی تھی، جب وہ مجھے دم کر دیتا تو آرام آ جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ شیطانی عمل تھا، وہ اپنے ہاتھ سے کچوکا مارتا تھا، جب وہ دم کرتا تو رک جاتا تھا۔ آپ صرف رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی طرح کہہ لیا کریں: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے رب! بیماری کو ختم فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفا دینے والا نہیں، ایسی شفا دے کہ بیماری باقی نہ رہے۔“