السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنِ الرُّقْيَةِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ يَرْقِيَ الرَّجُلُ بِكِتَابِ اللهِ وَمَا يَعْرِفُ مِنْ ذِكْرِ اللهِ. فَقُلْتُ: أَيَرْقِي أَهْلُ الْكِتَابِ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَقَوْا بِمَا يُعْرَفُ مِنْ كِتَابِ اللهِ ⦗٥٨٨⦘ وَذِكْرِ اللهِ. فَقُلْتُ: وَمَا الْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: غَيْرُ حُجَّةٍ، وَأَمَّا رِوَايَةُ صَاحِبِنَا وَصَاحِبِكَ فَإِنَّ مَالِكًا أَخْبَرَنَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَكِي، وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا، قَالَ: ارْقِيهَا بِكِتَابِ اللهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْأَخْبَارُ فِيمَا رَقَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُقِيَ بِهِ، وَفِيمَا تَدَاوَى بِهِ وَأَمَرَ بِالتَّدَاوِي بِهِ كَثِيرَةٌ قَدْ أَخْرَجْتُ بَعْضَ مَا وَرَدَ فِي الرُّقَى فِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.ربیع کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے دم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”آدمی اللہ کی کتاب اور معروف ذکر سے دم کرے تو کوئی حرج نہیں۔“ میں نے پوچھا: کیا اہل کتاب مسلمانوں کو دم کر سکتے ہیں؟ تو فرمانے لگے: ”جب کتاب اللہ یا ذکر اللہ سے دم کریں تو جائز ہے۔“ میں نے پوچھا: اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: اس کی کوئی دلیل نہیں، لیکن ہمارے اور تمہارے صاحب کی روایت ہے کہ عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں، جنہیں ایک یہودیہ عورت دم کر رہی تھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو اللہ کی کتاب کے ذریعے دم کرنا۔“
شیخ فرماتے ہیں: وہ احادیث جن میں یہ بیان ہے کہ نبی ﷺ نے دم کیا اور آپ ﷺ کو دم کیا گیا اور اس کے بارے میں کہ جو آپ نے دوائی کرنے کا حکم دیا، بہت ساری احادیث ملتی ہیں۔