السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تثنية قوله قد قامت الصلاة وإفراد ما قبلها باب: مؤذن کے قول ”قد قامت الصلاة“ کو دو بار کہنے اور اس سے پہلے کے کلمات کو ایک بار کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1959
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا قَوْلَهُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ ”اذان دوہری کہیں اور اقامت ایک ایک مرتبہ، مگر «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو مرتبہ کہیں۔“