السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: أدوية النبي صلى الله عليه وسلم سوى ما مضى في الباب قبله باب: پچھلے باب میں گزرنے والی ادویات کے علاوہ نبی کریم ﷺ کی (تجویز کردہ) دیگر ادویات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا يقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ وَهِيَ أَرْضُ رِيعِنَا وَمِيرَتِنَا، وَهِيَ وَبِيئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ ". قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: الْقَرَفُ: مُدَانَاةُ الْوَبَاءِ وَالْمَرَضِ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَهَذَا مِنْ بَابِ الطِّبِّ، لِأَنَّ فَسَادَ الْأَهْوَاءِ مِنْ أَضَرِّ الْأَشْيَاءِ وَأَسْرَعِهَا إِلَى أَسَقَامِ الْبَدَنِ عِنْدَ الْأَطِبَّاءِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَهَذَا نَظِيرُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ". وَكُلُّ ذَلِكَ بِمَشِيئَةِ اللهِ وَإِذْنِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ".فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں ایک زمین ہے جسے ابین کی زمین کہا جاتا ہے، وہ ہماری کھیتی اور غلے کی زمین ہے اور وہ وبا زدہ ہے (یا کہا) اس کی وبا سخت ہے؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو کیونکہ بیماری کے قریب رہنے سے ہلاکت ہوتی ہے۔“
قتیبی کہتے ہیں: «القرف» کا مطلب وبا اور بیماری کے قریب ہونا ہے۔
ابو سلیمان (خطابی) کہتے ہیں: یہ طب کے باب سے ہے، کیونکہ اطباء کے نزدیک ہوا کا خراب ہونا سب سے زیادہ نقصان دہ اور بدن کو جلد بیمار کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نبی ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے: ”جب تم کسی زمین میں اس (وبا) کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ۔“ اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اذن سے ہوتا ہے، اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔