❮
❯
حدیث نمبر: 19581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ⦗٥٨٣⦘ الْفَزَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَدَّادَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِنْ وَلَدِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " السَّنَا وَالسَّنُّوتُ فِيهِمَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ". قَالَ: فَقِيلَ لِإِبْرَاهِيمَ: وَمَا السَّنُّوتُ؟ فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الشَّاعِرِ:.
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں ابن دیلمی کے ساتھ گیا یہاں تک کہ ہم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سنا اور سنوت میں ہر قسم کی بیماری کی دوا ہے۔“ ابراہیم سے پوچھا گیا: سنوت کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے شاعر کا قول نہیں سنا؟ (اس شعر میں) سنوت کے ساتھ ایسے گھی کا ذکر ہے جس میں ملاوٹ نہ ہو، اور ان لوگوں کا جو ہمسائے کو بھی اس سے لذت حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19581
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»